خود آگاہی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اپنی شناخت کرنا، اپنے کو پہچانا، اپنی ذات کا شعور۔ "جب تک عشق سے آداب خود آگاہی نہ سیکھے جائیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی نہیں کھل سکتے۔"      ( ١٩٨٤ء، تنقید و تفہیم، ٨٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خود' کے بعد فارسی ہی سے ماخوذ اسم صفت 'آگاہ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'خود آگاہی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٣٥ء کو "بالِ جبریل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اپنی شناخت کرنا، اپنے کو پہچانا، اپنی ذات کا شعور۔ "جب تک عشق سے آداب خود آگاہی نہ سیکھے جائیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی نہیں کھل سکتے۔"      ( ١٩٨٤ء، تنقید و تفہیم، ٨٥ )

جنس: مؤنث